اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے سابق وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ انہیں اس بات پر شبہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہمیشہ بہترین اور درست مشورے فراہم کیے جاتے ہیں۔
ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مارک ایسپر نے کہا کہ کانگریس میں موجود ریپبلکن ارکان کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ آیا قومی سلامتی اور اہم تزویراتی معاملات پر صدر کو واقعی بہترین مشاورت حاصل ہو رہی ہے یا نہیں۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی حالیہ مفاہمت کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کے تسلسل، آبنائے ہرمز کی بحالی اور بعض دیگر معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم معاہدے کے متن میں کئی ایسے نکات موجود ہیں جو مزید وضاحت اور غور و فکر کے متقاضی ہیں۔
مارک ایسپر نے کہا کہ ان کے نزدیک موجودہ صورتحال کو مکمل حل کے بجائے جنگ بندی میں توسیع قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ کئی بنیادی سوالات ابھی بھی جواب طلب ہیں۔
سابق وزیر دفاع اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات 2020 میں کشیدہ ہو گئے تھے، جس کے بعد انہیں اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ بعد ازاں وہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے نمایاں ناقدین میں شمار ہونے لگے اور 2024 کے صدارتی انتخاب کے دوران بھی انہوں نے ان پر تنقید کی تھی۔
آپ کا تبصرہ